ہاؤس آف ڈیوڈ

ہاؤس آف ڈیوڈ حضرت داؤد کی زندگی کے آغاز پر مبنی کہانی ہے۔ اس کو ایمزون پرائم نے فلمایا ہے۔ اس سلسلے کی اب تک کی سات قسطیں نشر ہوچکی ہیں۔

بائبل میں ساؤل (Saul) یعنی طالوت اور حضرت سیموئیل (Samuel) کی کہانی پرانے عہد نامے (Old Testament) کی کتاب 1-سیموئیل (1 Samuel) میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت داؤد (David) کا ذکر بھی اسی کتاب اور بعد کی کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔

حضرت سیموئیل بنی اسرائیل کے آخری قاضی (Judge) اور ایک نبی تھے۔ جب بنی اسرائیل نے مطالبہ کیا کہ انہیں دوسرے اقوام کی طرح ایک بادشاہ دیا جائے، تو اللہ نے حضرت سیموئیل کے ذریعے ساؤل یعنی طالوت کو بادشاہ مقرر کیا۔

حضرت ساؤل کو حضرت سیموئیل نے مسح کر کے (anoint) بنی اسرائیل کا پہلا بادشاہ مقرر کیا تھا۔

(1-سیموئیل 10:1)

ابتدا میں، ساؤل نے اچھا حکمران ہونے کا مظاہرہ کیا اور عمونیوں کے خلاف کامیاب جنگ کی۔

تاہم، کچھ عرصے بعد، انہوں نے حضرت سیموئیل کی ہدایات کی نافرمانی کی، جیسے کہ اللہ کے حکم کے برخلاف عمالیقیوں (Amalekites) کو مکمل طور پر تباہ نہ کرنا۔

(1-سیموئیل 15)

قرآن کریم میں بھی یہ واقعہ مختصر طور پر بیان ہوا ہے۔ جبکہ بائیبل میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

قرآن کریم میں حضرت طالوت (Saul) اور حضرت داؤد (David) کا قصہ سورۃ البقرہ (2:246-251) میں بیان ہوا ہے۔ اس میں بنی اسرائیل کے ایک اہم تاریخی واقعے کا ذکر ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کو بادشاہ بنایا اور حضرت داؤد نے جالوت (Goliath) کو قتل کیا۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ

بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہا:

“ہم پر ایک بادشاہ مقرر کر دیجیے تاکہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کریں”

(البقرہ 2:246)

نبی نے ان سے پوچھا کہ اگر تمہیں جہاد کا حکم دیا جائے اور تم پیچھے ہٹ جاؤ گے تو کیا ہوگا؟

مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ہم ضرور لڑیں گے۔ مگر جب جنگ کا وقت آیا تو اکثر لوگ پیچھے ہٹ گئے۔

حضرت سیموئیل نے اللہ کے حکم سےحضرت طالوت کو بادشاہ مقرر کیا، لیکن بنی اسرائیل نے اعتراض کیا کہ

“یہ ہم پر بادشاہ کیسے ہو سکتے ہیں، ان کے پاس مال و دولت بھی نہیں!

(البقرہ 2:247)

نبی نے جواب دیا کہ

“اللہ نے انہیں تم پر فضیلت دی ہے، انہیں علم اور جسمانی طاقت میں برتری دی ہے”۔

اللہ نے حضرت طالوت کے بادشاہ ہونے کی نشانی یہ دی کہ ان کے دور میں تابوت سکینہ (وہ مقدس صندوق جس میں بنی اسرائیل کی برکتیں تھیں) واپس آ گیا تھا۔

(البقرہ 2:248)

جب طالوت کی مختصر فوج جالوت (Goliath) اور اس کے لشکر کے مقابلے پر پہنچی تو وہ دعا کرنے لگے:

“اے ہمارے رب! ہم پر صبر نازل فرما، ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما”

(البقرہ 2:250)

اللہ نے انہیں فتح دی اور حضرت داؤد (David) نے جالوت کو قتل کر دیا (البقرہ 2:251)

اس کے بعد قرآن حضرت داؤد کے چنے جانے کا ذکر کرتا ہے۔

“اللہ نے داؤد کو بادشاہت اور حکمت عطا کی، اور انہیں جو چاہا سکھایا”

(البقرہ 2:251)

ہاؤس آف ڈیوڈ بتاتی ہے کہ ساول نے حکومت پانے کے بعد کچھ عرصے اچھے طریقے سے حکمرانی کی مگر پھر وہ اپنا ماضی بھول گئے۔ وہ سمجھے کہ جتنی بھی کامیابیاں ان کو ملی ہیں وہ ان کی ذاتی عقل و ذہانت کی وجہ سے ہیں۔

فلم میں ایک جگہ ان کا بیٹا جوناتھن ان سے کہتا ہے کہ آپ کے اس کام سے سیموئل نبی ناراض ہونگے تو سیموئل یعنی طالوت ان سے کہتے ہیں کہ

“بادشاہ ہر کسی کو خوش نہیں رکھ سکتا، کوئی نہ کوئی تو ایسا ہوگا کہ جو میرے کسی کام سے ناراض ہوگا۔ چلو اس بار سیموئیل ہی سہی”

حضرت سیموئل کو خدا خبر دیتا ہے کہ اس نے طالوت کو معزول کردیا ہے۔ جب حضرت سیموئیل یہ بات آکر طالوت کو بتاتے ہیں تو وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ اس کو جب پتا چلتا ہے کہ کسی اور کو منتخب کرلیا گیا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ ایسے شخص کو زندہ نہیں رہنا چاہیے۔ اس کی ملکہ جو اس سے بہت محبت کرتی ہے، وہ ہر ممکن جائز ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے کہ کسی طریقے سے بادشاہت ان کے گھر میں موجود رہے۔

وہاں سے حالات تبدیل ہونا شروع ہوتے ہیں۔ حضرت داؤد جو ایک معمولی چرواہے تھے، کس طرح سے بادشاہ کے محل پہنچ جاتے ہیں، یہ بہت زبردست انداز میں فلمایا گیا ہے۔ اس کو دیکھ کر حضرت موسی کا واقعہ یاد آتا ہے جو فرعون کی بادشاہت کو ختم کرنے والے تھے، مگر فرعون کے گھر میں ہی پلے بڑھے۔

نبی سے خدا خطاب کرتا ہے مگر وہ بتاتے ہیں کہ زیادہ تر تشبیہات اور استعارات میں ان سے بات کی جاتی ہے۔

کبھی کبھی مستقبل بھی مکاشفہ میں دکھایا جاتا یے۔ نبی خوف زدہ بھی ہوتے تھے، جان بچانے کے لیے چھپتے بھی تھے۔ لیکن بات کہنے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے تھے۔

حضرت داؤد نے بائبل کے مطابق بنی اسرائیل کی حکومت کو مضبوط کیا اور یروشلم میں بیت المقدس (Temple) بنانے کی تیاری کی، حالانکہ یہ کام بعد میں ان کے بیٹے حضرت سلیمان (Solomon) نے مکمل کیا۔

انہیں بائبل میں “خدا کے دل کے مطابق آدمی” کہا گیا ہے۔
(اعمال 13:22)

اس سیزن میں پرانے دور میں لوگوں کا رہن سہن، انبیاء کا برتاؤ، طاقت اور اقتدار کی جنگ کے مختلف پہلو آشکار پوتے ہیں، انسان خود کو اسی دور میں محسوس کرتا ہے جب خدا اپنے انبیاء کے زریعے انسانوں سے ہم کلام ہوتا تھا۔ یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس عالم اسباب میں مشیت تکوینی جو بھی کام بھی لیتی ہے، بندوں کے واسطہ سے لیتی ہے اور روئے زمین پر فساد برپا ہوجانے سے بھی خدا کا فضل عظیم ہی بچاتا ہے۔

وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ ۙ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ

“اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا، لیکن اہل عالم پر اللہ کا بڑا فضل ہے”

(سورہ البقرہ آیت 251)

ابو جون رضا

2

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *