
قدر” عربی زبان میں اندازہ، تقدیر اور قسمت کے معنی میں آتا ہے۔ شب قدر کو شب قدر کہنے کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں:
بعض علماء کہتے ہیں کہ چونکہ انسانوں کے ایک سال کے مقدرات اسی رات کو متعین ہوتے ہیں اس لئے اسے شب قدر کہا جاتا ہے۔
بعض معتقد ہیں کہ اگر کوئی شخص اس رات کو شب بیداری کی حالت میں گزارے تو وہ صاحب عظمت و منزلت قرار پاتا ہے اس لئے اس رات کو شب قدر کہا جاتا ہے۔
بعض کا کہنا ہے کہ اس کے قدر کی رات سے موسوم ہونے کی وجہ اس رات کی شرافت اور عظمت ہے۔اسی بنا پر شب قدر کو “لیلة العظمه” اور “لیلة الشرف” سے بھی یاد کیا گیا ہے۔
بعض احادیث میں شب قدر کو سال کا آغاز قرار دیا گیا ہے
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:
“قدر سے مراد تقدیر اور اندازہ گیری ہے اور خداوند متعال انسانوں کی زندگی، موت، رزق، سعادت اور شقاوت کو اسی رات تعین فرماتا ہے”
(علامہ طباطبائی، تفسیر المیزان، ج20، ص561)
رسول اکرم بعثت سے پہلے رمضان میں غار حرا جاتے تھے۔ پہلی وحی بھی رمضان المبارک میں ہی آئی ہے۔
سورہ دخان میں ارشاد ہے
۱۔حا، میم ۔
وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ
۲۔ اس روشن کتاب کی قسم ۔
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنۡذِرِیۡنَ
۳۔ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے، یقینا ہم ہی تنبیہ کرنے والے ہیں۔
فِیۡہَا یُفۡرَقُ کُلُّ اَمۡرٍ حَکِیۡمٍ
۴۔ اس رات میں ہر حکیمانہ امر کی تفصیل وضع کی جاتی ہے۔
اَمۡرًا مِّنۡ عِنۡدِنَا ؕ اِنَّا کُنَّا مُرۡسِلِیۡنَ
- ایسا امر جو ہمارے ہاں سے صادر ہوتا ہے (کیونکہ) ہمیں رسول بھیجنا مقصود تھا۔
بعض روایات میں سورہ دخان کی چوتھی آیت کی تفسیر میں ائمہ سے مروی ہے کہ آنے والے سال میں ہر انسان کے مقدرات شب قدر کو متعین کئے جاتے ہیں۔ اسی لئے شب قدر کو سال کا آغاز قرار دیا گیا ہے۔
قران کریم کے دو نزول کہے جاتے ہیں۔
ایک لوح محفوظ سے بیت المعمور، پھر وہاں سے قلب رسول اکرم۔ ایک دفعی نزول ہے اور ایک تدریجی نزول ہے۔ یعنی ایک دفعہ پورا نازل ہوا اور باقی تئیس سال میں اہستہ آہستہ اترتا رہا۔
رمضان کی ایک رات میں نزول شروع ہوا ۔ تئیس سال تک مسلسل اترتا رہا۔ پھر آخری سال میں مکمل طور پر قلب رسول اکرم پر نازل ہوا۔
رسول اکرم جبرائیل امین کے ساتھ رمضان میں دورہ قرآن کرتے تھے ۔ اپنی عمر کے آخری سال ، نبی کریم نے دو مرتبہ قرآن لوگوں کو پڑھ کر سنایا ،اور بتایا کہ اس سال مجھے جبرائیل امین نے دو مرتبہ قرآن پیش کیا ہے، اس سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ یہ میری زندگی کا آخری سال ہے۔
شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم ہے۔ ان میں اکیس، تئیس، پچیس، ستائیس اور انتیس کی شب شامل ہیں۔ ایک روایت کے مطابق پندرہ رمضان بھی ممکنہ طور پر شب قدر ہوسکتی ہے۔
اہل بیت سے مروی روایات میں اکیس اور خاص کر تئیس کی شب زیادہ امکان ہے۔ اہل سنت ستائیس رمضان کو شب قدر قرار دیتے ہیں۔ اگر اس عشرے کی ساری طاق راتوں میں مناجات کا اہتمام کیا جائے تو امید ہے کہ شب قدر انسان کو مل جائے گی۔
یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یعنی اس ایک رات میں معمولی عبادت کا ثواب بھی ، ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔
اس رات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اللہ کی رحمتوں کو نزول ہوتا ہے۔
ان راتوں میں عبادت خدا کا اہتمام کیجئے اور مجھ حقیر کو دعاؤں میں یاد رکھیے۔
ابو جون رضا