https://www.facebook.com/share/v/1Baj357QRo
آیت اللہ عقیل الغروی کا شمار ان خطیبوں میں ہوتا ہے جو خطابت کا فن جانتے ہیں۔ مجمع کو اپنی خطابت کے زور پر مسحور کرنا ان کو خوب آتا ہے۔ یہ ایرانی رجیم کے مداحوں کو بھی خوش رکھتے ہیں، ان سے غالی بھی خوش رہتے ہیں، ان سے مدارس والے بھی خوش رہتے ہیں
نام کے ساتھ آیت اللہ لگا ہوا ہے تو عوام ویسے ہی دبک جاتی ہے۔ یہاں تو معمولی ملا جو چار پانچ سال حوضہ علمیہ میں لگا کر آجائے اور عبا قباء پہن کر منبر پر بیٹھ کر اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگے، اس پر عوام واہ واہ کے ڈونگرے برساتی ہے ،کجا کہ ایک اردو بولنے والا آیت اللہ سامنے بیٹھا ہو۔ اب تو وہ شعر بھی پڑھے گا تو مجمع اچھل اچھل کر داد دے گا۔
حال یہ ہے کہ ایک دفعہ خطابت کے زور میں کہہ گئے کہ مسلمانوں تمہیں چاہیے کہ علی کی بندگی کرو۔ اس پر بزرگ شیعہ علماء نے لیڑ نکالے تھے کہ یہ کیا خرافات منبر سے نشر کی گئی ہیں۔ یہ بڑے ناراض ہوئے، انڈیا جاکر پاکستان کو خوب برا بھلا کہا۔ کچھ سال یہاں نہیں آئے۔ اب دوبارہ نمودار ہوئے ہیں۔
ابھی انہوں نے دوبارہ کوئی شرلی چھوڑی کہ لیلتہ القدر سے مراد جناب سیدہ ہیں۔ ان کی اس گفتگو کا لنک میں پوسٹ کے ساتھ لگا رہا ہوں اور ان کے خطاب کی مختصر تحلیل پیش کرتا ہوں۔
یہ بحار الانوار جلد 25 کی روایت لائے ہیں جس میں راوی کے پوچھنے پر امام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں کہ لَيْلَةُ اَلْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ يَعْنِي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَم۔
شکر ہے کہ انہوں نے روایت آگے بیان نہیں کی کہ
اَلرُّوحُ رُوحُ اَلْقُدُسِ وَ هُوَ فِي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ
یہ جن صاحب یعنی محمد بن جمہور سے بیان کی ہوئی روایت ہے، اس کو نجاشی نے ضعيف في الحديث اور فاسد المذهب قرار دیا ہے۔
آپ غور کریں کہ ساری زندگی حوضہ علمیہ میں گزارنے کے بعد آیت اللہ عقیل الغروی کی اپروچ کیا ہے؟
ان کے ذہن کو قران نے بالکل متاثر نہیں کیا ہے۔ یہ روایات کے اسیر ہیں۔ یہ جو چاہے منبر سے کہیں، کوئی سوال جواب کرنے والا، پوچھنے والا نہیں ہے کہ قران کیا دس بارہ لوگوں کی مدح کے لیے نازل ہوا ہے؟
کیا صدر اسلام میں عرب لیلتہ القدر سے کسی شخصیت کو مراد لیتے تھے؟ کیا وہ ان راتوں میں مدح جناب سیدہ بیان کرتے تھے ؟ کیا حضرت علی اور امام حسن اپنے دور خلافت میں منبر سے رمضان میں یہ باتیں کرتے تھے کہ لیلتہ القدر سے مراد میری بیوی یا میری والدہ ہیں؟ آؤ ان راتوں میں ان کی شان میں قصیدے پڑھیں۔۔۔
یہ اشارتاً فرماتے ہیں کہ “لیلتہ القدر” بار بار دہرا کر نعوذباللہ خدا لطف لے رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا قرآن میں صرف ایک مرتبہ کوئی بات دہرائی گئی ہے؟
سورہ بقرہ میں لفظ “قلیلا” دس سے زیادہ دفعہ اور پورے قرآن میں پچاس سے زیادہ مقامات پر استعمال ہوا ہے۔ کیا یہاں یہ مراد لیں گے کہ خدا لطف لے رہا ہے؟ سورہ الرحمن میں خدا نے فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ تیس مرتبہ ارشاد فرمایا ہے، کیا اس سے بھی یہی مراد لی جائے گی کہ خدا نے اس لیے بار بار بات دہرائی کہ اس کو لطف محسوس ہورہا تھا؟
یہ فرماتے ہیں کہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا کا کوئی کفو نہ ہوتا اگر علی پیدا نہ ہوتے۔
اب اس جملے پر غور کیجئے ۔ یعنی جناب سیدہ کا معیار اتنا اونچا تھا کہ وہ صرف حضرت علی سے ہی شادی کرسکتی تھیں۔
اگر اللہ حضرت علی کو پیدا نہ کرتا تو جناب سیدہ کی شادی ہی نہ ہو پاتی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جناب سیدہ کی دوسری بہنوں کی شادی کے وقت یہ معیار کہاں چلا گیا تھا؟ ان کی شادی تو مشرکوں میں بھی ہوئی۔
اگر یہ کہتے ہیں کہ وہ لے پالک لڑکیاں تھیں جو جناب خدیجہ کے پہلے شوہر سے تھیں تو جناب خدیجہ کو دوسری شادی والا ماننا پڑتا ہے۔ اب یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کو بھی باکرہ بھی مانا جاتا ہے۔
یہاں پر غلات فرماتے ہیں کہ وہ ان کی بہن کی لڑکیاں تھیں۔
یعنی رسول اکرم نے دوسروں کی بچیاں تو کافروں مشرکوں میں آرام سے دے دیں۔ لیکن اپنی بچی کے لیے آسمان سے الگ شخصیت کی درخواست کی۔ جو حضرت علی کی شکل میں زمین پر اتری۔
اب اس کے بعد ایک اور مسئلہ کھڑا ہوتا ہے۔ حضرت علی نے تو جناب سیدہ کے بعد اور بھی شادیاں کیں۔ لونڈیاں رکھیں۔
کیا حضرت علی کا معیار نعوذباللہ اتنا گر گیا تھا کہ انہوں نے ہما شما کسی سے بھی جناب سیدہ کے انتقال کے بعد شادیاں کیں۔ بیس پچیس بچے پیدا کیے؟
حد ہے کہ نہج البلاغہ میں وصیت کرتے ہیں کہ وہ کنیزیں جو میرے تصرف میں ہیں ان میں سے جس کی گود میں بچہ یا پیٹ میں ہے، تو وہ بچے کے حق میں روک لی جائے گی اور اس کے حصہ میں شمار ہو گی۔ پھر اگر بچہ مر بھی جائے اور وہ زندہ ہو تو بھی وہ آزاد ہو گی۔ اس سے غلامی چھٹ گئی ہے اور آزادی اسے حاصل ہو چکی ہے۔
اب یہاں کوئی مجھے بتائے کہ حضرت علی کی دوسری ازواج نے اپنا معیار اتنا اونچا کیا تھا کہ جناب سیدہ کے برابر آیا تو انہوں نے حضرت علی سے نکاح کیا، یا پھر حضرت علی نے اپنا معیار نعوذباللہ اتنا گرا دیا کہ لونڈیوں تک سے مقاربت کرلی؟
کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔
آیت اللہ عقیل الغروی صرف ان لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں جو پڑھتے نہیں ہیں، سن کر ایمان لائے ہیں۔
جو قرآن سے محبت رکھتے ہیں، اس کو اپنا امام مانتے ہیں، کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر پائے گا۔
اللہ ان کو ہدایت دے، اور ان کے شر سے مومنین کو محفوظ رکھے۔
ابو جون رضا
ماشاءاللہ آپ نے ان صاحب کی حقیقت اجاگر کر دی ۔ دین کا ماخذ قرآن و سنت ہے نہ کہ روایات ۔ جس کسی نے یہ بات گانٹھ باندھ لی وہ نہ گمراہ ہوگا نہ شک میں پڑے گا۔ آپ سلامت رہیں۔
شکریہ سر