
امام خمینی کو میں نے کبھی سامنے سے نہیں دیکھا ۔ صرف ٹی وی پر ایک آدھ بار ان کی شکل دیکھی تھی۔ پی ٹی وی پر ان کے انتقال کی خبر جب نشر ہوئی تو مجھے یاد ہے کہ والدہ گرامی یا اللہ کہہ کر کرسی پر گر سی گئی تھیں۔ میں چھوٹا تھا ، امام خمینی کا ذکر گھر میں بہت سنا تھا مگر ان کو جانتا نہیں تھا۔ بعد میں امام خمینی کی کتابوں کے زریعے ان سے تعارف حاصل ہوا۔
اس بات سے قطع نظر کہ انہوں نے اپنی قوم کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر کھڑا کیا اور شاہ کا تختہ الٹ دیا، امام خمینی ایک عارف اور متقی انسان تھے۔ میں نے ان کی کتاب آداب نماز جب بھی پڑھی، ہمیشہ اس کو مفید پایا۔ امام خمینی جس طرح سے احادیث کو لاکر ان کے درمیان تطبیق کرتے ہیں اور پھر معرفت الہی کی گفتگو کرتے ہیں، اس سے دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔
ان کی بہو نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا پورا نام مجھے یاد نہیں مگر وہ خاطرات کے عنوان سے پبلش ہوئی تھی۔ یہ ان کے امام خمینی کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی یاداشتیں تھیں۔ مجھے افسوس ہے کہ وہ کتاب میں نے خریدی نہیں، اس کی کچھ باتیں میرے ذہن میں تازہ ہیں۔
اس کتاب میں امام خمینی کی بہو لکھتی ہیں کہ امام خمینی اپنی دونوں بہوؤں سے یکساں احترام کے ساتھ پیش آتے تھے۔ بڑی بہو کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔ دونوں بہوؤں میں سے کوئی بھی ان کے کمرے میں داخل ہوتا تو فورا “یا اللہ” کہہ کر احترام میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ بعض اوقات کھانا لگنے میں دیر ہوتی تھی تو قران پڑھنے لگ جاتے تھے، یہ ان کے قرآن سے شغف کا عالم تھا۔
امام خمینی کا ایک گارڈ آخر زمانے میں ان کے ساتھ تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ ایک رات وہ ان کے کمرے کے باہر عبادت میں مشغول تھا تو امام خمینی کمرے سے باہر آئے، اس کو مصلے پر بیٹھا دیکھ کر کہنے لگے کہ جوانی کو غنیمت سمجھو، آج تم جس طرح سے عبادت کررہے ہو، میں بوڑھا شخص اب اس قوت سے عبادت نہیں کرسکتا۔ یعنی امام خمینی کی خود کی پوری زندگی عبادت میں گزر گئی مگر وہ کسی جوان کو دیکھ کر رشک کر رہے تھے ۔
احمد خمینی بتاتے ہیں کہ جب ہم عراق نجف میں تھے تو روزانہ امام خمینی کا معمول تھا کہ آندھی آئے یا طوفان آئے، ہر حال میں رات میں مخصوص وقت میں تیار ہوکر حرم امیر المومنین کی زیارت کو جاتے تھے۔
جس زمانے میں انقلاب ایران آیا ہے، اس سے کچھ عرصہ پہلے آیت اللہ مرتضی مطہری امام خمینی سے ملنے فرانس گئے، وہاں شاہ کے مظالم کا ذکر ہوا۔ امام خمینی نے کہا کہ اب پوری ایرانی عوام کو محرم میں شاہ کے خلاف گھر سے باہر نکل آنا چاہیے، مطہری صاحب نے کہا کہ یہ بہت رسکی ہوگا، شاہ نے کرفیو لگا دیا ہے اور شوٹ ایٹ سائٹ کا آڈر دیا ہے۔ امام خمینی نے یہ سن کر زور دیکر کہا کہ عوام کو ایسا ہی کرنا چاہیے، میں واضح طور پر خدائی ہاتھ محسوس کررہا ہوں، شاہ کے دن گنے جاچکے ہیں۔
مطہری صاحب کہتے ہیں کہ میں ان کے خدا پر اس قدر یقین پر حیران رہ گیا۔
بعد میں وہی ہوا، عوام محرم میں گھر سے باہر نکلی اور شاہ کا تختہ الٹ گیا۔ اس انقلاب کو امام خمینی نے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا طفیل قرار دیا تھا۔
امام خمینی کی جوانی جن لوگوں نے دیکھی ہے ، وہ بتاتے ہیں کہ دوران طالب علمی، جس زمانے میں سخت سردی پڑا کرتی تھی، پانی جم کر برف بن جاتا تھا۔ امام خمینی منہ اندھیرے بیدار ہوکر پہلے کسی کیل یا نوکیلی چیز سے برف توڑتے تھے اور پھر اس ٹھنڈے یخ پانی سے وضو کرکے نماز ادا کیا کرتے تھے۔
اگر کوئی شخص امام خمینی سے علمی اختلاف رکھتا ہے تو یہ کوئی مضائقہ والی بات نہیں ہے، علمی دنیا میں یہ سب معاملات چلتے رہتے ہیں۔ وہ معصوم شخصیت نہیں تھے، غلطیاں ان سے بھی ہوئی ہونگی۔
لیکن اگر کوئی شخص امام خمینی کی ذات پر حملہ کرے اور ان پر الزام لگائے کہ وہ حفاظت پر معمور گارڈز سے اپنی جنسی خواہش پورا کرتے تھے تو یہ ایسا الزام ہے ، ایسی تہمت ہے جس پر الزام لگانے والے کو کوڑے پڑنے چاہییں، اگر وہ اس الزام کو ثابت نہ کرسکے۔
کم سے کم ایسے شخص کے لیے جو سزا ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایسے شخص کی گواہی کسی عدالت میں تسلیم نہ کی جائے ، اس سے کوئی روایت نہ لی جائے اور اس کو کذاب ڈکلیئر کیا جائے۔
میں یہ بات عرصہ پہلے سمجھ گیا تھا کہ مناظرہ کبھی دین کی خدمت نہیں کرتا، یہ دلوں میں کجی پیدا کرتا ہے۔ نفرتیں پھیلتی ہیں۔ دین پیش کرنے کا نام ہے، مناظرے کا نام نہیں ہے۔ اسی لیے کبھی مناظروں کی وڈیوز یا ٹاک شوز میں دلچسپی نہیں لی۔
شیخ حسن اللہ یاری جو بہت بڑے مناظر ہیں انہوں نے امام خمینی پر گھٹیا الزام لگائے ہیں کہ وہ لوطی تھے۔ اس سے پہلے یہ خامنہ ای صاحب کو بھی “میل پراسٹیٹیوٹ” کہہ چکا ہے، خونی اور قاتل ڈکلئیر کرچکا ہے۔

جب اللہ یاری کی نشریات پاکستان میں شروع ہوئیں تو میں نے اسی وقت اس کے خلاف تحریر لکھی تھی اور کہا تھا کہ یہ شخص فسادی ہے، شیعہ عوام اس کو نہ سنے۔ لیکن ہماری عوام کا خمیر اہلسنت پر طنز ، ان کا مضحکہ اڑانا اور طعن تشنیع سے گندھا ہوا ہے۔ یہاں اس کو بہت شوق سے سنا جاتا ہے۔
آج حد یہ ہے کہ اہلسنت مناظر عدنان، اللہ یاری کو چیلنج کررہا ہے کہ تم امام خمینی پر لگائے گئے الزام کو ثابت کرو ورنہ تم کذاب ہو۔
مجھے عدنان صاحب سے بھی کوئی بھلائی کی امید نہیں ہے کیونکہ یہ خود بھی مناظر ہیں مگر اس وقت وہ سوشل میڈیا پر اس بات کو اس انداز میں پھیلا رہے ہیں جیسے واحد وہی امام خمینی کے مدافع شخص ہیں۔ شیعوں کو تو سانپ سونگھا ہوا ہے۔
میں اللہ یاری جیسے افراد سے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ پروردگار اس شخص کے شر سے ہم سب کو محفوظ فرما۔
ابو جون رضا