
میں ہمیشہ قرآن کریم پڑھنے کی تاکید کرتا ہوں، قرآن کریم میں موجود دعاؤں کے علاوہ الگ سے لمبی لمبی عربی دعائیں پڑھنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ اس کی جگہ اپنی مادری زبان میں دعائیں مانگی جائیں تو دل سے نکلتی ہیں۔ ایسی دعا جس کو عربی میں طوطے کی طرح پڑھ لیا جائے اور مطلب پتا نہ ہو، بے فائدہ ہے
اس کے علاوہ مشہور کتابوں جیسے مفاتیح الجنان وغیرہ میں لکھی ہوئی زیادہ تر دعاؤں کی کوئی سند نہیں ہے۔ مجہول راویوں کی وضعی دعائیں ان کتابوں میں شامل ہوتی ہیں۔ اگر مجہول الحال راویوں کی دعا خلاف قران و سنت نہ ہو تو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مفاتیح میں شامل بعض دعاؤں کے الفاظ بہت اچھے ہیں، مگر یہ دعائیں رسول اکرم یا ائمہ تک نہیں پہنچتیں، ان سے منسوب کردی گئی ہیں۔ جیسے دعائے کمیل، دعائے مشلول، دعائے جوشن کبیر وغیرہ
دعائے مجیر ایک ایسی دعا ہے جس کے جملے بہت شاندار ہیں، ان کو ترجمہ کے ساتھ اگر رمضان مبارک کے ایام ابیض میں اگر پڑھا جائے تو توحید یعنی معرفت خدا حاصل ہوتی ہے جو اپنی بادشاہی میں اکیلا ہے، اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے، اس کو کسی واسطے وسیلہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ پوری کائنات کا اکیلا چلانے والا اور دعاؤں کا سننے والا ہے۔
یہ دعا نیٹ پر بآسانی مل جاتی ہے۔ بمشکل دس منٹ اس کو پڑھنے میں لگتے ہیں۔
اگر اس دعا کو رمضان میں پڑھیں تو مجھ حقیر کو دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔
ابو جون رضا