
مجھے ایک عرفانی نکتہ کسی نے بیان کیا جس کو سن کر میں لرز گیا۔
نکتہ یہ تھا کہ جو لوگ دنیا میں کسی کی میمکری بہت کرتے ہیں جس میں تضحیک کا عنصر واضح طور پر نظر آتا ہے ، ان پر زندگی میں فالج کا حملہ ضرور ہوتا ہے۔
وہ منہ جس سے وہ لوگوں کا مذاق اڑاتے تھے ، اس کو ہلانے میں ہی ان کو تکلیف کا سامنا ہوتا ہے۔
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
ایک بات قابل غور ہے، دنیا میں آپ کسی شخص کا چاہے وہ کتنا ہی لبرل، کھلے ذہن کا ہو ، سامنے بیٹھا ہو، اس کا مذاق اڑائیں تو دلی طور پر کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جو اس چیز کو پسند کرے کہ اس کا مذاق بنایا جائے۔
قرآن کریم کی ایک آیت مجھے یاد آئی ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ﴿ سورہ الحجرات آیت ۱۱﴾
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگایا کرو اور ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کیا کرو، ایمان لانے کے بعد برا نام لینا نامناسب ہے اور جو لوگ باز نہیں آتے پس وہی لوگ ظالم ہیں۔
میں عقلیات کی طرف جھکاؤ رکھتا ہوں، اس لیے اس عرفانی نکتہ کو قبول کرنا ذرا مشکل ہے مگر میں پھر بھی خدا سے پناہ مانگتا ہوں اگر کسی کا مضحکہ اڑایا ہو اور کسی کا دل دکھایا ہو۔
ابو جون رضا