
مفتی لقمان اور اویس اقبال کا آج لائیو مناظرہ دیکھا۔ میں نارملی مناظرے دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اچانک سے لائیو فیس بک پر اسکرول کرتے ہوئے سامنے آیا تو مجھے ٹاپک دیکھ کر دلچسپی پیدا ہوئی۔
کیا قرآن الہامی کتاب ہے؟ یہ موضوع بحث تھا۔
میں حیران ہوا کہ مفتی صاحب تو مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں اور مسلکی وابستگی رکھتے ہیں، وہ مبشر زیدی کو جواب دیتے دیتے کہاں اویس اقبال سے اس قدر دقیق ٹاپک پر مناظرہ کرنے کھڑے ہوگئے جو ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔
اویس اقبال نے پوچھا کہ قرآن میں ایسی کیا خاص بات ہے جو دوسری کتابوں میں نہیں ہے؟ مفتی صاحب نے جواب دیا کہ اس جیسی فصیح و بلیغ کتاب لکھی نہیں گئی، اس کتاب کے جیسی فصاحت و بلاغت، کسی بات کو بیان کرنا، انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔
اویس اقبال نے سورہ کرونا جو آمنہ شرقی نے لکھی تھی وہ پیش کردی کہ یہ ایک سورہ ہے، اس کو آپ قران جیسا ماننے سے کیسے انکار کریں گے؟ مفتی صاحب کو پتا نہیں تھا کہ شاید اس طرح کے واقعات تاریخ میں ہوچکے ہیں اور سورہ کرونا تو حالیہ معاملہ ہے، وہ بالکل گڑبڑا گئے کہ یہ سورہ کہاں سے آگئی؟ لیکن انہوں نے بالکل صحیح سوال کیا کہ آپ اس کو پڑھیے، پھر ہم اس پر کلام کرتے ہیں کہ یہ قرآن جیسی سورہ ہے یا نہیں؟
یہاں اویس اقبال جو عربی شاید نہیں جانتا، اس نے سورہ پڑھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ میرا مقصد نہیں تھا کہ میں اس سورہ کی تلاوت کروں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ قرآن میں ایسا کیا ہے جو انسانی ذہن خود سے نہیں سمجھ سکتا یا پیش کرسکتا؟
مفتی صاحب کو یہاں پر قرآن کریم سے ہی دلائل دینے چاہیے تھے کہ اس میں کس طرح کا نظم ہے اور قرآن بات کو کس طرح سے بیان کرتا ہے کہ اس طرح سے بیان کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے بجائے وہ الٹا سوال کرنے لگے کہ آج تک کوئی اس جیسا کلام کوئی کیوں نہیں لاسکا؟ یہ الزامی جواب ہے جس کا اویس نے طنز کے طور پر خوب استعمال کیا۔
اویس اقبال نے مفتی صاحب سے پوچھا کہ قران عربی میں لکھا گیا ہے، یہ عربوں کی زبان ہے، جو کہ ڈھائی ہزار سال پہلے وجود میں آئی۔ جبکہ انسان دو ملین سال پہلے جب ووکل کارڈ ڈیویلپ نہیں ہوئے تھے ، تب اشاروں سے کلام کرتا تھا۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کے مطابق پہلے انسان یعنی حضرت آدم اور خدا کا مکالمہ ہوا تھا، ابلیس اور خدا کا مکالمہ ہوا تھا ، وہ کس زبان میں ہوا تھا؟
یہاں مفتی صاحب بالکل فلیٹ ہوگئے، ان کے چہرے سے شکست کے آثار نمایاں ہوئے ، انہوں نے کہا کہ یہ موضوع ہی نہیں ہے۔ اویس اقبال نے کہا یہ قصہ قرآن میں بیان ہوا ہے، سوال قرآن پر ہی ہو رہا ہے، اب یہاں آپ بتائیے کہ خدا نے کس زبان میں کلام کیا تھا؟
مفتی صاحب نے کہا کہ اس بارے میں ہمیں علم نہیں ہے ۔ ہمیں تو یہ پتا ہے کہ عربوں کے زمانے میں قران آیا، کیونکہ وہ عربی ہی جانتے تھے اس وجہ سے عربی میں نازل ہوا۔
اویس اقبال نے پھر پوچھا کہ ایسا کونسا قانون ہے جو قرآن میں بیان ہوا ہے اور وہ انسانی ذہن خود سے نہیں بنا سکتا تھا؟
مفتی صاحب نے فرمایا کہ جو قوانین قرآن میں بیان ہوئے، اس جیسے قوانین اس سے پہلے کہاں تھے؟
اویس اقبال سیٹ سے اٹھا اور شیلف سے حمورابی کا قانون کی کتاب لے آیا۔ اس نے کہا یہ وہ قانون ہے جسے امریکہ کے قوانین بناتے وقت تاریخی حوالے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مفتی صاحب نے پوچھا کہ یہ کب لکھا گیا؟ اویس نے کہا کہ یہ 1754 قبل حضرت عیسی (ع) لکھا گیا .
اب یہاں مفتی صاحب پریشان ہوگئے ۔ کہنے لگے کہ اس کی کوئی سند پیش کریں۔
اویس نے کہا کہ یہ تاریخی بات ہے، اس کو لوگوں نے تاریخی طور پر نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دنیا میں قوانین موجود ہیں، رومن لاء ہے، سمیری قوانین ہیں، انسان نے تو قانون بنائے ہیں، وہ ہم تک پہنچے ہیں، خدا کا انسان کیوں محتاج ہوگا کہ وہ بتائے کہ بیوی کو کب مارو۔
مفتی صاحب اتنا جانتے تھے کہ حمورابی یا دوسرے قوانین کے مستند ہونے پر بات کریں گے تو یہ سوال اگر اویس نے پوچھ لیا کہ قرآن کی سند کیا ہے تو کیا جواب دیں گے؟ یہی کہیں گے کہ اس کو اتنے لوگوں نے تواتر سے نقل کیا ہے کہ غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی بات کو اویس بھی حمورابی کے لیے پیش کردیتا تو پھر کیا بچتا؟
اسی لیے مفتی صاحب یہ کہنے لگے کہ آیت کے سیاق کو دیکھا جائے کہ ایسا ڈائریکٹ نہیں کہا گیا بلکہ عربوں کو بتایا گیا کہ عورت کو کس طرح سے ہینڈل کیا جائے. اس پر اویس نے مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ انسان بیوی کو پیٹے، اس بات کو جاننے کے لیے خدا کا محتاج ہے؟
مختصر یہ کہ اویس نے مناظرہ ختم کردیا کہ سات دن بعد دوبارہ لائیو آئیں گے، پھر بات کریں گے، اور یہیں سے شروع کریں گے۔
مفتی صاحب اس قدر سادہ ہیں کہ ان کو “سیک آف آرگیومینٹ” کا مطلب نہیں پتا تھا۔ اویس کیونکہ مناظرے کرتا آیا ہے اس وجہ سے جب مفتی صاحب انشائیہ یا خبریہ جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے تو فورا پوچھ لیتا تھا کہ اس کو آسان کرکے بیان کریں، میں سمجھا نہیں۔
لیکن جب اویس اقبال نے کہا کہ “فور دی سیک آف آرگیومینٹ” میں مان لیتا ہوں کہ یہ الہامی کتاب ہے تو مفتی صاحب یہ سمجھے کہ فار گاڈ سیک کہہ رہا ہے ، فورا بھنگڑے ڈالنے لگے کہ آپ نے میرے پہلے سوال کے جواب کو تسلیم کرلیا ہے۔
اس پر اویس اقبال نے طنزیہ کہا کہ مفتی صاحب، فار سیک آف آرگیومینٹ میں نے کہا ہے، اس کا مطلب ہے فرض کرتے ہیں۔ مان لیتے ہیں ، نہیں ہے
میں سمجھتا ہوں کہ قران کے الہامی کتاب ہونے پر کوئی مسلکی آدمی ، ملحدین سے بحث نہیں کرسکتا، ملحد اس کو فرقے کے اندر ہی گھما کر پٹخ دے گا۔ مسلکی آدمی کے ساتھ مجبوری یہ ہے کہ اس کو مسلک کا بھی دفاع کرنا ہے اور ساتھ ساتھ وہ اسلام کو بچانے کی ذمہ داری بھی اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جس میں وہ بری طریقے سے پٹتا ہے۔
قرآن کا دفاع وہی کرسکے گا جو بالکل نیوٹرل ہوکر، ہر فرقے ، مسلک سے بالاتر ہوکر اس کو پڑھے گا اور جو بات یہ کتاب بیان کررہی ہے، اس تک ہی محدود رہے گا۔
یہ مفتی ملا مولانا حضرات کے بس کی بات نہیں ہے۔
ابو جون رضا