
ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی ایک مختصر وڈیو نظر سے گزری۔ اب وہ سہارا لیکر چلتے ہیں مگر ایس آئی یو ٹی میں ابھی بھی حاضر ہوتے ہیں۔ انہوں نے سینکڑوں ٹرانس پلانٹ کیے، ایس آئی یو ٹی کو ایک مثال بنایا، مفت میں گردے کا مہنگا ترین ٹرانس پلانٹ وہاں فری میں ہوجاتا ہے، اگر آپ کے پاس ڈونر ہے۔
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تعریف اور مدح کے طلبگار نہیں ہیں۔
ہر چوک پر، ہر فیس بک کی پوسٹ پر ، ہر انسٹاگرام ریل پر خود کو نہیں دیکھنا چاہتے۔
ریاکاری ایک ایسا بڑا مسئلہ ہے جس سے بڑے بڑے لوگ نہیں بچ پاتے۔
خاموشی سے مخلوق کی خدمت، کوئی نیک کام کرکے دریا میں ڈال دینا، یہ خدا کو مطلوب ہے۔
یہاں تو جب تک انسان چار لوگوں سے تعریف نہ سن لے، اس کا کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ اس سے بڑھ کر دوسروں کے نیک کاموں کا کریڈٹ بھی خود لینا چاہتا ہے۔
رسول اکرم کی حدیث مبارکہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ خدا تین لوگوں سے بہت محبت کرتا ہے،
ان میں ایک وہ ہے جو خاموشی سے کسی کی مدد کرتا ہے اور کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہوتی۔
میں نے آیت اللہ دستغیب جو اخلاقیات کے استاذ تھے، ان کی تقریباً ہر کتاب پڑھی ہے۔
وہ اس بات پر بہت زور دیتے تھے کہ کوئی بھی نیک کام ہو، کوئی نیک الفاظ ہوں، کسی کو کوئی مسئلہ بتایا ہو، یہاں تک کہ راستے سے ناگوار شے ہٹائی ہو، اس کو ریاکاری سے برباد نہ کریں۔
وہ کہتے تھے کہ آپ اگر نیک کام کریں گے تو شیطان یا نفس اتنا ایکٹو نہیں ہوگا جتنا جب آپ کام کرلیں گے تب ایکٹو ہوجائے گا۔
بعض اوقات تو نفس یا شیطان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ شخص نیک کام لازمی کرے گا اس کو روکنے کا فائدہ نہیں ہے۔ لیکن وہ پھر بھی اطمینان سے ہوتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ میں نیک کام کے بعد اس کی تشہیر سے اس شخص کو زمین پر دے ماروں گا۔
وہ قیامت میں لوگوں کا حال بیان کرتے ہیں کہ وہ پہاڑ جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے اور وہ نیکیاں ان کے سامنے برباد ہو جائیں گی ۔ وجہ یہی ہوگی کہ وہ خالص خدا کے لیے نہیں تھیں۔ ان پر آپ پہلے ہی دنیا والوں سے داد وصول کر چکے تھے۔
اس وقت کہا جائے گا کہ ایک عمل ایسا پیش کردو جو خالص خدا کے لیے یعنی ہمارے لیے کیا ہو، ابھی اجر دیتے ہیں، بندہ بغلیں جھانکنے کے سوا کچھ نہیں کرسکے گا۔
اب تو فیس بک نے نیکیوں کا بدل دنیا میں دے دیا ہے۔
پوسٹ پر سو لائکس پڑ گئے۔ آپ خوش ہوگئے۔ دل کو قرار آگیا کہ دنیا کو پتا چل گیا کہ میں کتنا بڑا انسان ہوں۔
چار پانچ لوگوں نے گالیاں دے دیں۔ آپ نے بھی جواب دے دیا۔
یا دل میں بغض پال لیا۔
بس محنت وصول ہوگئی
آخرت میں کیا لینا چاہتے ہو؟
ابو جون رضا