
آج چودہ رمضان کو قریبی دوستوں کے گھر افطار تھا۔ علی مظفر اور رضا سلطان دونوں نے ہر سال کی طرح امسال بھی افطار پر مدعو کیا۔ تین گھنٹے کی نشست رہی جس میں قرآن کریم، الحاد، اخلاقیات، منبر سے نشر کی جانے والی لغویات وغیرہ پر گفتگو رہی۔
سورہ الفیل کی تفسیر اور مکتب فراہی کا تفرد بھی زیر بحث آیا۔ “تَرۡمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ” پر کافی گفتگو ہوئی۔
ایک بات پر سب متفق تھے کہ الحاد کے بڑھنے کی اصل وجہ داعیانہ روش کا ختم ہونا اور علماء کا جدید دور میں ابھرتے ہوئے سوالات کے جوابات نہ دے پانا ہے۔ الحاد کے سامنے بھی انسان اپنے مسلک کا ، ان سے وابستہ عقائد اور اسلاف کا دفاع کرتا ہے جس کی وجہ سے ملحدین آرام سے مسلک پرستوں کو پٹخ دیتے ہیں۔ قران اور رسول اکرم کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
اہل سنت میں مذہبی تشدد زیادہ ہے تو اہل تشیع میں غلو کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ان کو اپنے متقدمین اور ان کی لکھی ہوئی کتابوں کا نہیں پتا ، ائمہ میں بھی ان شخصیات کا علم ہے جو سیاسی طور پر ایکٹو رہے، جن کا سیاسی کردار نہیں ہے ، ان کو یہ بس نام سے جانتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ ان ائمہ کو باب الحوائج کا ٹائٹل دیکر ان کو حاجات پوری کرنے کا کام دے دیا ہے۔ ان کی سیرت کیا ہے؟ اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہے۔
مجھے شریک محفل جناب رضا سلطان صاحب نے بتایا کہ وہ ایک مجلس میں گئے، وہاں ایک سورہ مولانا صاحب نے سرنامہ کلام بنایا۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہمارے دوست نے موبائل نکال کر سورہ پڑھنا شروع کیا، سورہ مکمل طور پر آخرت اور خدا کے اختیارات کی بات کررہی تھی۔ مولانا صاحب نے پوری مجلس میں صرف سورہ کے فضائل بیان کیے ، اس کے بعد وہ رونے پیٹنے لگے، مجلس تمام ہوگئی۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سورہ اصل میں بات کیا کرتی ہے؟ کیا پیغام خدا اس کے زریعے ہمیں دینا چاہتا ہے؟
یزید کے ذکر کے بغیر ، یہ ملا اس قابل نہیں ہیں کہ پانچ منٹ سیرت امام حسین پر گفتگو کرسکیں۔
اہل تشیع کی فقہ بہت وسعت کی حامل ہے۔ اس میں تنوع اور سوالات کے جوابات دینے کی سکت ہے مگر وہ برصغیر میں بیان ہوتی ہی نہیں ہے۔
گیلیپ سروے کے بارے میں ہمارے دوست محمد حر نے بتایا کہ پاکستان میں پچھتر فیصد لوگ وہ ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔ صرف سولہ فیصد افراد وہ ہیں جو ہفتے میں کل ملا کر ایک گھنٹہ کتاب پڑھ لیتے ہیں۔ روزانہ ایک گھنٹہ کتاب پڑھنے والے شاید گیلپ والوں کو بھی نہیں ملے۔

انٹرنیشنل پالیٹیکس بھی ہلکی پھلکی زیر بحث آئی۔ خاص کر ٹرمپ کی گفتگو اور ان کے بیانات پر بات ہوئی۔
“ہمارے بچے ملحد کیوں ہونگے” نامی کتاب پر گفتگو رہی۔ وحی آخر پہاڑوں میں ہی کیوں آتی رہی؟ اس موضوع پر بھی بات ہوئی۔
افطار اور کھانے میں بہت اہتمام تھا۔ اصل میں تو علمی گفتگو سے ہم سب سیراب ہوئے، جس کے لیے میں اپنے دوستوں کا ممنون و مشکور ہوں۔
دعا ہے پروردگار ان کی تمام حاجات کو روا فرمائے اور ان کے گھرانے پر اپنا کرم و رحم فرمائے۔
ابو جون رضا